ابنا: نوری المالکی نے آئي آر آئي بی، العالم اور پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ عراقی حکومت گذشتہ برس کے آخر تک ہی ایم کے او کے دہشتگرد گروہ کو نکال باہرکرنا چاہتی تھی لیکن اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور بعض ملکوں کے حکام کی مداخلت سے اس دہشتگرد گروہ کے اخراج میں تاخیرپیش آئي۔
انہوں نے نائب صدر طارق ہاشمی کے بارے میں کہا کہ ان کا مسئلہ پوری طرح سے عدالتی ہے لیکن العراقیہ گروہ اس کو سیاسی رنگ دینا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طارق ہاشمی کو عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض عرب ممالک عراق میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔
عراقی وزیر اعظم نے شامکے حالات کے بارے میں کہا کہ شام کے قومی مفادات عراق کے لئے نہایت اہمیت کےحامل ہیں اور اسی بنا پر ہم شام کی حکومت اور مخالفین سے گفتگو کررہے ہیں تاکہ شام کےبحران کاکوئي حل نکل سکے انہوں نے کہا کہ عراق اور ایران کے مابین دوستانہ تعلقات ہیں۔............... /169